حکام کے محاسبے يا امت کے ذريعے حکومت تک پہنچنے کے ليے مسلمانوں کو سياسي پارٹياں بنانے کي اجازت ہے، بشرطيکہ يہ پارٹياں اسلامي عقيدے کي بنياد پرہوں اور جن احکامات کي ان پارٹيوں نے تبني کي ہو، وہ شرعي احکامات ہوں? پارٹي بنانے کے ليے کسي سے اجازت لينے کي ضرورت نہيں ہوگي? غير اسلامي بنياد پر ہر قسم کي پارٹي سازي ممنوع ہوگي?
A
18
آرٹيکل 21
17/10/2026
20 مشاہدات
0 شراکتیں
Related Articles
مضمون
23
رياست تيرہ ڈھانچوں پرمشتمل ہوگي: (1) خليفہ (2) معاونين(وزراء تفويض) (3) وزراء تنفيذ ...
22
17/10/2026
مضمون
22
حکمراني کے يہ چار بنيادي اصول ہيں: (1) اقتدارِ اعلي? شريعت کو حاصل ہوگا، نہ کہ عوام کو? (2) اتھارٹي(اختيار...
21
17/10/2026
مضمون
20
بھي ہے اور يہ مسلمانوں پر فرضِ کفايہ بھي ہے? رعايا کے غير مسلم افراد کو حکمران کے ظلم يا اسلامي احکامات کو غلط انداز سے نافذ کرنے کي شکايت کے اظہار...
23
17/10/2026
مضمون
19
حکومت يا حکومت سے متعلقہ امور (جنہيں حکومت ميں شمار کيا جاتاہو) چلانے والاشخص صرف آزاد، بالغ ،عاقل،عادل، مرد ،اور مسلمان ہي ہوسکتاہے،اور يہ کہ وہ اس ک...
22
17/10/2026
مضمون
18
تفويض، والي اورعامل? ان کے علاوہ باقي سب ملازم ہيں، حکمران نہيں?
22
17/10/2026