خليفہ کو اپني صوابديد اور اجتہاد کے مطابق لوگوں کے امور کي ديکھ بھال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور اسے ان مباحات کي تبني کرنے کا حق بھي حاصل ہے جو رياست کے معاملات کو چلانے اور لوگوں کے امور کي ديکھ بھال کو آسان بنانے کے ليے درکار ہوں? تاہم اس کے ليے يہ جائز نہيں کہ وہ مصلحت کو دليل بناکر کسي حکمِ شرعي کي مخالفت کرے? مثلاًاس کے ليے جائز نہيں کہ وہ غذائي قلت کو دليل بنا کر لوگوں کو کثرتِ اولاد سے منع کرے يا وہ استحصال کو روکنے کے نام پر، يعني اس کو دليل بناکر لوگوں کے ليے اشيائے صرف کي قيمتيں مقررکرے يا وہ لوگوں کے امور کي ديکھ بھال يا مصلحت کو دليل بنا کر کسي کافر يا کسي عورت کو والي مقرر کرے? اس کے علاوہ کسي بھي حالت ميں اسے احکامِ شرع کي مخالفت کرنے کي اجازت نہيں ہے? کسي حلال کو حرام يا کسي حرام کوحلال قراردينا اس کے ليے جائز نہيں?
آرٹيکل 38
Related Articles
جارہي ہو اس کے اندر انعقادِ خلافت کي تمام شرائط کا موجود ہونا لازم ہے? اگرچہ اس کے اندر شروطِ افضليت نہ بھي ہوں، کيونکہ بنيادي چيزشروطِ انعقاد ہيں?
وہ ملک يا خطہ، جو خليفہ کے ہاتھ پربيعتِ انعقاد کرے، کے ليے شرط ہے کہ اس ملک کااقتدار اس کا اپناہو، جس کا انحصار صرف مسلمانوں پر ہواور کسي کا فررياست ک...
صرف وہي شخص خليفہ ہوسکتاہے جسے مسلمان منتخب کريں? کسي بھي شخص کو خليفہ کے اختيارات اس وقت حاصل ہوں گے جب دوسرے شرعي عقود کي طرح اس کي بيعت کا عقد شرع...
جن لوگوں کي بيعت سے خلافت کا انعقاد ہوتاہے اگر وہ لوگ بطورِخليفہ کسي ايک شخص کي بيعت کرليں تو باقي لوگوں کي طرف سے دي جانے والي بيعت، بيعتِ اطاعت ہوگي...
ہر عاقل وبالغ مسلمان کو، خواہ وہ مرد ہو يا عورت، خليفہ کے انتخاب ميں حصہ لينے اور خليفہ کي بيعت کرنے کا حق حاصل ہے، ليکن غير مسلموں کو خليفہ کے انتخاب...